جی ہاں، علمِ غیب صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اور وہی جسے چاہے، محدود اور مخصوص غیب پر مطلع کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ سمیت کسی انسان، ولی، فرشتہ یا مخلوق کے پاس غیب کا علم نہیں۔ قرآنِ کریم نے بار بار اس عقیدے کو واضح کیا ہے۔ فرمایا
قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُ
کہہ دو آسمانوں اور زمین میں جو ہیں، کوئی غیب کو نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔
(سورۃ النمل: 65)
یہ آیت بالکل واضح ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، نبی یا ولی کے پاس بھی نہیں۔
نبی ﷺ کو اللہ نے اطلاع علی الغیب دیا۔ فرمایا
عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ٱرْتَضَىٰ مِن رَّسُولٍ
وہ غیب کا جاننے والا ہے، اور وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا، سوائے اس رسول کے جسے وہ پسند کرے۔
(سورۃ الجن: 26–27)
یعنی اللہ خود کسی نبی کو مخصوص غیب کی خبریں بذریعہ وحی دیتا ہے، لیکن وہ بھی مکمل غیب نہیں۔
علمِ غیب کامل ذاتی، کامل اور مستقل طور پر صرف اللہ کا اختیار ہے۔ انبیاء کو اللہ کے حکم سے محدود علم دیا جاتا ہے، لیکن وہ غیب کے عالم نہیں۔ لہذا جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبی ﷺ یا ولی غیب جانتے ہیں، وہ شرک فی العلم کا مرتکب ہے۔ ہمیں عقیدہ رکھنا چاہیے کہ صرف اللہ ہی ہر ظاہر و چھپے کو جانتا ہے، اور ہمیں صرف اسی سے دعا، فریاد اور علم مانگنا چاہیے۔