نہیں، بغیر نیت کے کوئی بھی نیک عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ اسلام میں ہرعمل کی اصل بنیاد نیت ہے، نیت صرف دل کے ارادے کا نام ہے۔ نیت کے الفاظ زبان سے ادا کرنے کودین سمجھنا بدعت ہے اور دلی نیت ہی اس بات کو طے کرتی ہے کہ عمل عبادت ہے یا محض عادت۔
إنما الأعمال بالنيات
اعمال کی قبولیت نیت پر ہے
(صحیح بخاری، حدیث1)
یہ حدیث دین اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ اگر نیت خالص اللہ کے لیے نہ ہو تو صلاۃ، صوم، صدقہ، حتیٰ کہ جہاد بھی مردود ہو جاتا ہے۔
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ
انہیں حکم یہی دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔
(سورۃ البینہ: 5)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اخلاص (نیت کی خالصی) کے بغیرعبادت کا کوئی وزن نہیں۔
محض عادتاً صلوۃ پڑھنا، بغیر اللہ کی رضا کے ارادہ کے صوم رکھنا صرف طبی فائدے کے لیے صدقہ کرنا ریاکاری یا شہرت کے لیے یہ سب اللہ کے ہاں نامقبول ہیں، اور بعض اوقات گناہ بن جاتے ہیں۔
ہر عمل کی نیت اللہ کے لیے ہونا لازم ہے۔ نیت کے بغیر کوئی نیکی نہ عبادت شمار ہوتی ہے، نہ ہی مقبول۔ اس لیے ہر عمل سے پہلے دل میں اللہ کی رضا کا ارادہ اور اخلاص ضروری ہے، تبھی وہ عمل عنداللہ مقبول ہوگا۔