|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

کیا دعا کرتے وقت یہ کہنا درست ہے کہ: اے اللہ! میں تیرے اچھے اچھے ناموں کا واسطہ دے کر دعا کرتا ہوں، میرا فلاں کام کر دے؟

دعا عبادت ہے، اور عبادت کا اصل اصول یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو اور اس میں وسیلہ بھی وہی ہو جسے اللہ نے جائز قرار دیا۔ قرآن نے دعا کے لیے ایک مکمل اصول بیان کیا۔فرمایا کہ
وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا
اللہ کے سب اچھے اچھے نام ہیں، پس انہی کے ذریعے اسے پکارو۔
(الاعراف، 180)
اللہ کے ناموں کو وسیلہ بنانا مشروع اور جائز طریقہ ہے، کیونکہ وسیلہ اللہ ہی کی طرف رہتا ہے، مخلوق کی طرف نہیں جاتا۔

نبی ﷺ نے بھی دعا میں اسماءِ حسنیٰ کا وسیلہ سیکھایا۔ فرمایا کہ

مَنْ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ

جو شخص تین بار (بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم) اللہ کے نام سے کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے ۔کہے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(سنن ابي داود:أبواب النوم :حدیث: 5088 / سنن ترمذي:كتاب الدعوات :حدیث: 3388)

یہ وہی دعا ہے جس میں نبی ﷺ نے خود اللہ کے ناموں کو وسیلہ بنایا، اور اسی سے معلوم ہوا کہ اس طریقہ میں توحید ہے، بدعت نہیں۔

صحابہؓ نے بھی کبھی نبی یا ولی کے نام، شان یا قبر کا واسطہ دے کر دعا نہیں کی، بلکہ اللہ کے اسماءِ حسنیٰ ہی کا وسیلہ اختیار کیا۔ یہی طرز قرآن و سنت سے ثابت ہے کہ وسیلہ اللہ کی صفات کا ہو، ناموں کا ہو، بندے کے اپنے عمل کا ہو، یا زندہ شخص سے اپنے حق میں دعا کروانے کا۔ مگر مخلوق کی ذات کا اللہ کو واسطہ نہ دیا جائے یہ شرک ہے۔

لہٰذا یہ کہنا: اے اللہ! میں تیرے اچھے اچھے ناموں کے وسیلے سے دعا کرتا ہوں، میرا فلاں کام کر دے۔ بالکل جائز، مسنون دعا ہے، کیونکہ اس میں وسیلہ اللہ ہی کا ہے، اور یہی وہ خالص راستہ ہے جو رسول ﷺ اور صحابہؓ نے امت کو سکھایا۔

مزید سوال کریں / اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Log In to Your Account