اگر کوئی شخص صرف قرآن کو مانے اور حدیثِ رسول ﷺ کا انکار کرے تو وہ اسلام کے مکمل فہم سے باہر نکل جاتا ہے۔ ایسا شخص بظاہر قرآن پر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے، مگر حقیقت میں وہ قرآن ہی کا انکار کر رہا ہوتا ہے، کیونکہ قرآن خود نبی ﷺ کی اطاعت، اتباع اور فرمانبرداری کو لازمی قرار دیتا ہے۔
وَمَا آتَاكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَٱنتَهُوا
اور رسول تمہیں جو کچھ دے، وہ لے لو، اور جس سے روکے، رک جاؤ۔
(سورۃ الحشر: 7)
یہ آیت اس بات کا واضح اعلان ہے کہ نبی ﷺ کی سنت اور فرمان اللہ کے حکم کے برابر لازم ہے۔ جو شخص صرف قرآن کو مان کر نبی ﷺ کی تعلیمات (حدیث) کا انکار کرے، وہ قرآنی حکم کا منکر ہے۔
رسول کی اطاعت، اللہ کی اطاعت ہے۔
مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ
جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
(سورۃ النساء: 80)
اگر کوئی کہے میں صرف اللہ کی بات مانتا ہوں، رسول کی نہیں تو گویا وہ اللہ کی اطاعت سے بھی باہر نکل گیا، کیونکہ قرآن نے نبی ﷺ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دیا ہے۔
:نبی ﷺ کی بات وحی ہے
وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ
اور وہ (نبی) اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے، یہ تو صرف وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔
(سورۃ النجم: 3–4)
یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ نبی ﷺ کا ہر فرمان وحی ہے، اور جو حدیث کا انکار کرے، وہ وحی کا منکر ہے۔
قرآن کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہر حکم کو مانا جائے اور اس میں نبی ﷺ کی اطاعت اور حجیؔت حدیث بھی شامل ہے۔
جو شخص کہے کہ میں صرف قرآن مانتا ہوں اور حدیث کو حجت نہ سمجھے، وہ قرآن کا منکر ہے، مسلمان نہیں۔
سچے مسلمان وہی ہیں جو قرآن اور صحیح حدیث دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔
:نبی ﷺ نے فرمایا
لَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا يُوشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ، يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ وَلَا لُقَطَةُ مُعَاهِدٍ، إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُ فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُ فَلَهُ أَنْ يُعْقِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ
سنو، مجھے کتاب (قرآن) دی گئی ہے اور اس کے ساتھ اسی کے مثل ایک اور چیز بھی (یعنی سنت)، قریب ہے کہ ایک آسودہ آدمی اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے کہے: اس قرآن کو لازم پکڑو، جو کچھ تم اس میں حلال پاؤ اسی کو حلال سمجھو، اور جو اس میں حرام پاؤ، اسی کو حرام سمجھو، سنو! تمہارے لیے پالتو گدھے کا گوشت حلال نہیں، اور نہ کسی نوکیلے دانت والے درندے کا، اور نہ تمہارے لیے کسی ذمی کی پڑی ہوئی چیز حلال ہے سوائے اس کے کہ اس کا مالک اس سے دستبردار ہو جائے، اور اگر کوئی کسی قوم میں قیام کرے تو ان پر اس کی ضیافت لازم ہے، اور اگر وہ اس کی ضیافت نہ کریں تو اسے حق ہے کہ وہ ان سے مہمانی کے بقدر لے لے
(سنن ابی داود، حدیث: 4604، صحیح)
لہٰذا قرآن کو ماننے کے دعوے کے ساتھ حدیث کا انکار کفر ہے، اور ایسا شخص مسلمان نہیں رہتا۔