جی ہاں ایسا کئی مشرک قومیں کرتی ہیں قرآن میں واضح ہے۔ کہ
م مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِكُونَ
کہو کہ اللہ ہی تمہیں ان مصیبتوں سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے، پھر بھی تم شرک کرنے لگتے ہو۔
(الانعام 64)
:اللہ ہی مشکلات سے نجات دینے والا ہے
یہ آیت بتاتی ہے کہ جب انسان بڑی مصیبت یا تکلیف میں پھنس جاتا ہے، تو وہ صرف اللہ کو پکارتا ہے۔ مشکل میں انسان ہر جھوٹے سہارے چھوڑ کر اپنے خالق کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
:نجات کے بعد دوبارہ شرک
لیکن جب اللہ انسان کو مصیبت سے نکال دیتا ہے، تو کچھ لوگ پھر وہی شرکیہ باتیں کرتے ہیں۔ وہ راحت اور نجات کو اللہ کے بجائے قسمت، ستاروں، بزرگوں، یا اپنی عقل سے جوڑ دیتے ہیں۔
انسان ایسا کیوں کرتا ہے؟
مصیبت کے وقت انسان اپنی کمزوری سمجھ لیتا ہے، مگر آسانی ملتے ہی وہ اللہ کو بھول کر پرانی غلط راہوں پر لوٹ جاتا ہے۔ یہ اللہ کی ناشکری اور بہت بڑی غفلت ہے۔
:اس کی تاریخی مثالیں
قرآن میں کئی قوموں کا ذکر ہے کہ وہ مصیبت میں اللہ کو پکارتیں، مگر نجات ملنے کے بعد اپنے باطل معبودوں کی طرف لوٹ جاتیں۔ فرعون کی قوم اور کفار مکہ اس کی مثال ہیں۔
یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل مدد اور نجات صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے نجات کے بعد بھی اللہ کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ مشکل وقت میں اللہ کو پکارنے کا جو اخلاص ہوتا ہے، وہ آسانی میں بھی باقی رہنا چاہیے تاکہ انسان سچا مومن بنے۔
یہ آیت ہمیں توبہ، شکر اور اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتی ہے، تاکہ ہم نجات کے بعد بھی اسی پر توکل رکھیں اور شرک سے بچے رہیں۔