|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

ایمان کن چیزوں پر لانا ضروری ہے؟

اللہ پر ایمان وہ اصل بنیاد ہے جس پر دین قائم ہے، اور اللہ نے خود فرمایا: (فَآمِنُوا بِاللَّهِ) (التغابن 13) یعنی اللہ پر ایمان لاؤ۔ اس ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ ہر خوف، ہر امید، ہر محبت اور ہر بھروسہ صرف اسی پر رکھے۔

اللہ کی وحدانیت پر ایمان ضروری ہے، جیسا کہ ارشاد ہے: (إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ) (البقرۃ 163)۔ اس وحدت کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کی کوئی بھی صورت کسی غیر کی طرف منتقل نہ ہو۔

اللہ کی ربوبیت کا اقرار دین کی اصل ہے، اور اللہ نے فرمایا: (رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ) (الشوریٰ 4)۔ یعنی تمام تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی قدرت پر یقین ایمان ہے۔

اللہ کی الوہیت پر ایمان ضروری ہے، جیسا کہ فرمایا: (فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا) (الجن 18)۔ عبادت کا ہر عمل اسی کے لیے مختص ہے۔

اللہ کے اسماء و صفات پر ایمان ضروری ہے، اور قرآن میں فرمایا: (وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ) (الاعراف 180)۔ ان صفات کی مثل کوئی صفت نہیں۔

اللہ کی سمع و بصر پر ایمان ضروری ہے، کیونکہ فرمایا: (إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ) (الاسراء 1)۔ وہ سب سنتا اور دیکھتا ہے۔

اللہ کے علمِ کامل پر ایمان ضروری ہے: (وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ) (البقرۃ 282)۔ اس کے علم سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔

اللہ کی قدرت پر ایمان ضروری ہے: (وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ) (الملک 1)۔ ہر کام اسی کی مشیت سے ہوتا ہے۔

اللہ کی مشیت پر ایمان لازم ہے: (وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ) (التکویر 29)۔ ہر ارادہ اسی کے اذن سے ہے۔

اللہ کے عرش پر مستوی ہونے پر ایمان لازم ہے: (الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ) (طٰہ 5)۔ اس کی کیفیت اللہ ہی کو معلوم ہے۔

اللہ کے نزولِ رحمت پر ایمان ہے، جس کی خبر نبی ﷺ نے دی اور قرآن نے فرمایا: (وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ) (الشوریٰ 28)۔

اللہ کے فیصلوں پر رضامندی ایمان کا حصہ ہے: (وَاللَّهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ) (الرعد 41)۔

کتابوں پر ایمان ضروری ہے: (آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ) (البقرۃ 285)۔

قرآن کے حق اور ہدایت ہونے پر ایمان ضروری ہے: (ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ) (البقرۃ 2)۔

سابقہ کتابوں کی حقانیت پر ایمان ہے: (قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْنَا) (البقرۃ 136)۔

تمام انبیاء کی صداقت و عدم افضلیتِ واحد پر ایمان ضروری ہے: (لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ) (البقرۃ 285)۔

رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان ہے: (وَلَٰكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ) (الاحزاب 40)۔

نبی ﷺ کی اطاعت ایمان کا حصہ ہے: (أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ) (النساء 59)۔

فرشتوں کے وجود پر ایمان ضروری ہے: (جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا) (فاطر 1)۔

جبریلؑ کے روح الامین ہونے پر ایمان ہے: (نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ) (الشعراء 193)۔

تقدیر پر ایمان ضروری ہے: (إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ) (القمر 49)۔

لوحِ محفوظ پر ایمان ضروری ہے: (فِي لَوْحٍ مَّحْفُوظٍ) (البروج 22)۔

قلم کے لکھنے پر ایمان ضروری ہے: (مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ) (الانعام 38)۔

قیامت کے قائم ہونے پر ایمان ضروری ہے: (لَا رَيْبَ فِيهَا) (الاعراف 187)۔

مرنے کے بعد قیامت کے دن جسم میں روح لوٹائے جانے پر ایمان ضروری ہے: (ثُمَّ إِنَّكُم بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ) (المؤمنون 15–16)۔

حساب کے ہونے پر ایمان ضروری ہے: (فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ) (الزلزال 7)۔

میزان کے قائم ہونے پر ایمان ضروری ہے: (وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ) (الانبیاء 47)۔

نامۂ اعمال پر ایمان ضروری ہے: (وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ) (الاسراء 13)۔

پلِ صراط پر ایمان ضروری ہے: (وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا) (مریم 71)۔

حوض کوثر پر ایمان ضروری ہے: (إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ) (الکوثر 1)۔

شفاعت کے حق ہونے پر ایمان ضروری ہے: (مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ) (البقرۃ 255)۔

جنت کے حق ہونے پر ایمان ضروری ہے: (أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ) (آل عمران 133)۔

جہنم کے حق ہونے پر ایمان ضروری ہے: (أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ) (البقرۃ 24)۔

روح کے قبض ہونے پر ایمان ضروری ہے: (قُلْ يَتَوَفَّاكُم مَّلَكُ الْمَوْتِ) (السجدہ 11)۔

باطن و ظاہر دونوں پر اللہ کے علم کا ایمان: (يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَىٰ) (طٰہ 7)۔

رزق اللہ کے ہاتھ میں ہونے پر ایمان: (إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ) (الذاریات 58)۔

تعویذات وجادو ٹونے کے باطل ہونے اور نفع و نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہونے پر ایمان: (وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ) (الانعام 17)۔

اللہ کے سوا کوئی معبود نہ ہونے پر ایمان: (فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ) (محمد 19)۔

اللہ کی طرف رجوع کرنا دین کا تقاضا ہے: (فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ) (الذاریات 50)۔

شرک کے نہ بخشے جانے پر ایمان: (إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ) (النساء 48)۔

دعا صرف اللہ سے کرنے پر ایمان: (ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ) (غافر 60)۔

قربانی صرف اللہ کے لیے: (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ) (الکوثر 2)۔

نذر صرف اللہ کے لیے: (يُوفُونَ بِالنَّذْرِ) (الانسان 7)۔

ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں: (إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ) (القصص 56)۔

مشرک کی امامت سے اللہ راضی نہیں:(لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ)(البقرۃ 124)۔

ایصال ثواب کا عقیدہ باطل ہے:(وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى)(النجم 39)۔

غیراللہ کی نذرونیاز حرام ہے:(وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ)(البقرہ 173)۔

توبہ اللہ قبول کرتا ہے: (وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ) (الشوریٰ 25)۔

دین کی تکمیل پر ایمان: (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ) (المائدہ 3)۔

مزید سوال کریں / اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Log In to Your Account