خواب میں نبوت کا دعویٰ کرنا باطل و شیطانی القاء و کذب ہے، اور اگر کوئی اس پر یقین کرے تو یہ کفر ہے، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے واضح فرما دیا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٖ مِّن رِّجَالِكُمۡ وَلَٰكِن رَّسُولَ ٱللَّهِ وَخَاتَمَ ٱلنَّبِيِّنَ
محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور انبیاء کے خاتم ہیں۔
(الأحزاب 40)
نبی ﷺ نے فرمایا
لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
(صحیح بخاری، حدیث 3455، صحیح مسلم، حدیث 1842)
لہٰذا خواب میں بھی اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو یہ باطل و شیطانی القاء ہے۔ اگر کوئی اسے مان لے تو وہ ختمِ نبوت کا منکر ہو کر کافر ہو جائے گا۔ اور اگر کوئی ایسا دعویٰ خود کرے تو وہ جھوٹا، گمراہ اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔اگر ایسا خواب بھی جائےتو اسے بیان بھی نہیں کرنا چاہئے۔