|

Generic selectors
Exact matches only
Search in title
Search in content
Post Type Selectors

نیک نیت سے بدعت کرنا معاف ہے؟

بدعت نیک نیت ہی سے کی جاتی ہے اوراسے ثواب سمجھا جاتا ہے۔ نیک نیت سے بدعت کرنا بھی معاف نہیں، بلکہ دین میں اضافہ کرنے کی جسارت ہے، جو بدترین گمراہی ہے۔ شریعت نیت کے ساتھ ساتھ عمل کی مطابقت بھی چاہتی ہے۔ خواہ نیت اچھی ہو لیکن عمل نبی ﷺ کی سنت کے خلاف ہو، تو وہ مردود (رد کیا گیا) عمل ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا

من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو ردّ
جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے طریقے پر نہیں، وہ مردود ہے
(صحیح مسلم، حدیث: 1718)

یہ حدیث صریح طور پر واضح کرتی ہے کہ نیت کا اخلاص عمل کو قبول نہیں کراتا جب تک وہ سنت کے مطابق نہ ہو۔

نیت نجات کا ذریعہ کب ہے؟
نیت اسی وقت نفع دیتی ہے جب عمل سنت کے مطابق ہو۔

اگر کوئی شخص قبر پر چادر چڑھائے، یا گیارہویں، میلاد، اجتماعی درود وغیرہ کرے کہ نیت اچھی ہے، تو وہ بدعت ہے، اور نیت اسے نجات نہیں دلا سکتی۔

اسلام نبی ﷺ کی مکمل اور محفوظ شریعت ہے، اس میں اپنی طرف سے کچھ شامل کرنا، چاہے نیت کتنی ہی نیک کیوں نہ ہو، اللہ کے دین پر اعتراض ہے۔ لہٰذا نیت کی نیکی تبھی مفید ہے جب عمل بھی سنتِ رسول کے تابع ہو، ورنہ وہ بدعت ہے اور اس کا انجام جہنم کی طرف لے جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے

وكل بدعة ضلالة، وكل ضلالة في النار
اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی آگ ہے۔
(صحیح مسلم: 867)

مزید سوال کریں / اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Log In to Your Account