صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا نبی ﷺ سے ثابت نہیں بلکہ یہ بعد میں ایجاد کی گئی رسم ہے، لہٰذا یہ بدعت ہے۔ نبی کریم ﷺ صلاۃ کے بعد مسنون اذکار پڑھ کر فوراً مصلے سے اٹھ جاتے تھے اور فرض صلاۃ کے بعد اجتماعی دعا کا اہتمام کبھی نہیں کیا۔
جب اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اجتماعی دعا صلاۃ کے بعد مقرر نہیں فرمائی، تو کسی کو حق نہیں کہ اسے دین کا حصہ بنائے۔
أَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنۢ بِهِ ٱللَّهُ
کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں وہ باتیں مقرر کر دیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟
(سورۃ الشورى: 21)
نبی ﷺ جب سلام پھیرتے تو تھوڑی دیر اپنی جگہ بیٹھے رہتے، پھر اٹھ کر چلے جاتے۔ نبی ﷺ نے کبھی صلاۃ کے فوراً بعد اجتماعی دعا نہیں کی، نہ صحابہؓ نے کی۔ جو عبادت آپ ﷺ نے نہیں کی، اسے دین بنانا بدعت ہے۔ ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ اور دیگر صحابہؓ کا عمل یہ تھا کہ وہ صلاۃ کے بعد انفرادی طور پر اذکار کرتے اور چلے جاتے، اجتماعی دعا نہیں کرتے تھے۔
اجتماعی دعا کا فعل و التزام رسول اللہ ﷺ، صحابہؓ، تابعینؒ سے منقول نہیں۔ صلاۃ کے بعد اذکار مسنون ہیں، لیکن اجتماعی دعا کرنا بدعت ہے۔ جو عمل نبی ﷺ اور صحابہؓ سے نہ ہو، وہ دینی عمل نہیں بلکہ بدعت ہے۔